Friday, September 13, 2013

Choosing RTL option in gmail - جی-میل میں اردو زبان کا درست استعمال

Choosing Right-to-Left language direction option in gmail - جی-میل میں اردو زبان کا درست استعمال

This article shows you how to write Right-to-Left language URDU properly in gmail or any text-editor like MS-Word or Notepad etc.

انٹرنیٹ پر یونیکوڈ اردو کی روز افزوں ترقی کے باعث اردو داں netizens آج کل ای-میل بھی اردو رسم الخط میں کر رہے ہیں جو ایک خوش آئیند امر ہے۔
انگریزی کے بالمقابل اردو چونکہ دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے ، اسی سبب اردو ای-میل استعمال کرنے والوں کو مغالطہ ہوتا ہے کہ اگر تحریر کا alignment دائیں سے بائیں کر لیا جائے تو اردو دائیں سے بائیں بخوبی لکھی اور پڑھی جا سکے گی۔
لیکن ۔۔۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ صرف alignment تبدیل کر لینے سے ، اردو بےشک دائیں سے بائیں لکھی جا سکے گی مگر دائیں سے بائیں درست طور سے نہیں پڑھی جا سکے گی بالخصوص اس وقت جب تحریر کے درمیان انگریزی کا ایک یا ایک سے زیادہ الفاظ کا استعمال ہو۔

یہاں یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ ۔۔۔ کسی بھی ٹکسٹ ایڈیٹر میں (چاہے وہ MS-Word ہو یا Notepad یا اوپن آفس Writer یا ای-میل ٹکسٹ ایڈیٹر) ، اردو لکھنا ہو تو ۔۔۔ "تحریر کا رخ" نہیں بلکہ "زبان کا رخ" پہلے تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تحریر کا رخ (alignment) تو بعد میں بھی تمام تحریر کو select کر کے بآسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ہر ٹکسٹ ایڈیٹر میں زبان کے دو رخ (بائیں سے دائیں + دائیں سے بائیں) درج ذیل علامتوں کے ذریعے نمایاں کیے جاتے ہیں۔
بائیں سے دائیں [LTR] -
دائیں سے بائیں [RTL] -

لہذا جب اردو رسم الخط میں کچھ لکھنے کا ارادہ ہو تو متذکرہ بالا علامت کے انتخاب کے ذریعے پہلے "زبان کا رخ" تبدیل کر لینا چاہیے۔
سردست یہاں جی-میل کمپوزنگ ایڈیٹر کا ذکر بہتر ہوگا۔ درج ذیل تصویر ملاحظہ فرمائیں : (بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر کو کلک کیجیے)
Click on the image to see in its full size

پہلی دو سطروں میں "زبان کا رخ" تبدیل نہیں کیا گیا ہے لہذا default رخ ، بائیں سے دائیں [LTR] ہی ہے۔
پہلی سطر میں تحریر کا رخ بائیں سے دائیں ہے جبکہ دوسری سطر میں دائیں سے بائیں ۔۔۔۔ اس کے باوجود دونوں سطریں درست طور سے پڑھنے کے قابل نہیں ہیں۔

اب تیسری اور چوتھی سطر دیکھئے۔ یہ دونوں سطریں ، "دائیں سے بائیں" والے "زبان کا رخ" منتخب کر کے لکھی گئی ہیں۔ تیسری سطر میں ، تحریر کا رخ بائیں سے دائیں ہے جبکہ چوتھی سطر میں تحریر کا رخ دائیں سے بائیں۔ اس کے باوجود دونوں سطریں درست طور سے پڑھنے کے قابل ہیں۔

بہت ممکن ہے کہ کسی کو اپنے جی-میل کمپوزنگ بکس میں "زبان کا رخ" تبدیل کرنے والی علامت نظر نہ آئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ۔۔ یہ علامت default طور پر شامل نہیں ہوتی ہے بلکہ اسے علیحدہ سے شامل کیا جانا پڑتا ہے جو کہ بہت آسان طریقہ ہے۔
اپنے جی-میل اکاؤنٹ کے بالکل اوپر سیدھی جانب کے bolt شکل کے نشان کو کلک کیجیے (نیچے تصویر ملاحظہ فرمائیں) اور پھر Settings کو کلک کریں۔

آپ کے جی-میل اکاؤنٹ کا Settings والا صفحہ کھل جائے گا۔ (نیچے تصویر ملاحظہ فرمائیں) (بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر کو کلک کیجیے)
Click on the image to see in its full size

Language والے option کے ذیل میں آپ "دائیں سے بائیں" والے بٹن [Right-to-left editing support on] کو کلک کر دیجیے اور آخر میں Save Changes والے بٹن کو دبا دیں۔
اس طرح آپ کے جی۔میل کمپوزنگ ایڈیٹر میں زبان کے دونوں رخ بتانے والی علامت شامل ہو جائے گی جس کے ذریعے آپ اردو لکھتے وقت "دائیں سے بائیں" والے رخ کا انتخاب کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

6 comments:

Dhiya L said...

Here i had read the content you had posted. It is much interesting so please keep update like this.

Java Training in Chennai

Badrul Jaman said...

Interesting to read..
Java Training in Chennai

Gopi Perumal said...

Informative article..SAP Training in Chennai | SAP Training Institutes in Chennai | Best SAP Training in Chennai

Gopi Perumal said...

Pretty article! I found some useful information in your blog, it was awesome to read, thanks for sharing this great content to my vision, keep sharing.
Regards,

Core JAVA Training in Chennai | JAVA Training in Chennai

lotus said...

This article shows more interesting information. Thanks for sharing this nice article. it was helpful to us to learn more. Java Training Institute in Chennai | Java Training Institute in Velachery.


deeskha said...

Wow! Good post. your blog is not enough for learning new technology. keep updating more blogs.. Web Designing Training Institute in Chennai | Web Designing Training Institute in Velachery.